حدیث نمبر: 3260
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ فَرَدَّدَهَا حَتَّى أَقَرَّتْ أَوْ شَهِدَتْ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: «سَلْهَا مَا زِنَاهَا فَلَعَلَّ لَهَا عُذْرًا؟» فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي خَرَجْتُ فِي إِبِلِ أَهْلِي، وَلَنَا خَلِيطٌ، فَخَرَجَ فِي إِبِلِهِ فَحَمَلْتُ مَعِي مَاءً، وَلَمْ يَكُنْ فِي إِبِلِي لَبَنٌ، وَحَمَلَ خَلِيطِي مَاءً، وَمَعَهُ فِي إِبِلِهِ لَبَنٌ، فَنَفِدَ مَائِي فَاسْتَسْقَيْتُهُ، فَأَبَى أَنْ يَسْقِيَنِي حَتَّى أُمْكِنَهُ مِنْ نَفْسِي، فَأَبَيْتُ، فَلَمَّا كَادَتْ نَفْسِي تَخْرُجُ أَمْكَنْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، أَرَى لَهَا عُذْرًا {فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ} [البقرة: 173] " فَخَلَّى سَبِيلَهَا
مظاہر امیر خان

ایک عورت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس زنا کا اقرار کرنے آئی، آپ نے اسے کئی بار لوٹایا، جب اس نے چار بار گواہی دی تو رجم کا حکم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس سے وجہ معلوم کرو شاید کوئی عذر ہو۔“ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پیاس کی شدت سے مجبور ہو کر گناہ پر آمادہ ہوئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ اکبر، اس کا عذر موجود ہے، اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔

وضاحت:
وضاحت: ✅ 1. حدود کے نفاذ میں "تحقیقِ سبب" واجب ہے
→ جب عورت نے اقرار کیا، تو بظاہر حد واجب ہو گئی
→ لیکن علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت نے ظاہر کیا کہ اقرار کے پیچھے اضطرار تھا

✅ 2. قرآن سے استدلال: اضطرار کے وقت حرام بھی جائز ہو سکتا ہے
«فمن اضطر...» کی آیت صرف کھانے پینے پر محدود نہیں، → بلکہ عمومی طور پر جان بچانے والے افعال پر بھی دلالت کرتی ہے

✅ 3. شریعت میں انصاف، فہم، نیت اور حالات کو اہمیت حاصل ہے
ظاہری اقرار کافی نہیں، معنوی حالات و اسباب کی تحقیق ضروری ہے

حدود شک سے ساقط ہوتی ہیں، اور اضطرار سببِ رخصت ہے

✅ نتیجہ: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی اصول، قرآنی استدلال اور عدالتی بصیرت کا بلند ترین نمونہ ہے
اس سے درج ذیل اصول اخذ ہوتے ہیں: فقہی قاعدہ: فقہی قاعدہ | وضاحت، الحدود تدرأ بالشبهات | شک یا مجبوری ہو تو حد ساقط، الضرورة تبيح المحظورات | جان بچانے کے لیے ممنوع افعال کی اجازت ہو سکتی ہے، الاعتراف لا يكفي إذا قام عذر قهري | اقرار کے باوجود اگر مجبوری ہو تو حد نہیں
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3260
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «إسنادہ حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2083، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 17147»