سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْمَرْأَةِ تَلِدُ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ باب: اُس عورت کا بیان جس کے ہاں چھے مہینے میں بچہ پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 3257
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا الْعَوَّامُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ مُصَابَةٍ قَدْ فَجَرَتْ، فَهَمَّ أَنْ يَضْرِبَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ: لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ» فَخَلَّى عَنْهَا عُمَرُمظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو دیوانی تھی اور اس سے بدکاری ہو گئی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کر کے اسے حد سے بچا لیا۔
وضاحت:
وضاحت: یہ روایت اسلامی فوجداری قانون کا بنیادی اصول مہیا کرتی ہے: «لا جَرمَ بلا عقل» — جرم وہی معتبر ہے جو عقل اور قصد کے ساتھ سرزد ہو
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔