سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابٌ الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ الْفَاجِرَةُ فَيُحْصِنُهَا باب: اُس مرد کا بیان جس کی باندی بدکار ہو، اور وہ اس کا نکاح کر کے اسے پاکدامن بنا دے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي صَدْرِ النَّهَارِ فَوَجَدْنَاهُ صَائِمًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَيْهِ مِنَ الْعَشِيِّ فَوَجَدْنَاهُ مُفْطِرًا، فَقُلْنَا لَهُ: أَلَمْ تَكُ صَائِمًا؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّ جَارِيَةً لِي أَتَتْ عَلَيَّ فَأَعْجَبَتْنِي، فَأَصَبْتُ مِنْهَا، وَإِنَّمَا هُوَ تَطَوُّعٌ وَسَأَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَأَزِيدُكُمْ أَنَّهَا كَانَتْ بَغِيًّا فَحَصَّنْتُهَا، وَإِنَّهُ قَدْ عَزَلَ عَنْهَا " قَالَ سَعِيدٌ: فَعَلِمْنَا أَرْبَعَةَ أَشْيَاءَ فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍحضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم دن کے ابتدائی حصے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو وہ روزے سے تھے، پھر شام کو گئے تو وہ افطار کر چکے تھے، ہم نے پوچھا: کیا آپ روزے سے نہیں تھے؟ فرمایا: کیوں نہیں، مگر میری ایک لونڈی آئی، وہ مجھے پسند آ گئی تو میں نے اس سے مباشرت کی، اور یہ نفل روزہ تھا، جسے میں قضا کر لوں گا، اور میں تمہیں مزید بتاؤں کہ وہ پہلے بدکارہ تھی، تو میں نے اسے نکاح میں لا کر پاک کر لیا، اور میں نے اس سے مباشرت کے وقت عزل بھی کیا۔“ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: ”ہم نے اس ایک حدیث سے چار مسئلے سیکھے۔“