سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعِنِّينِ باب: اُس شخص کے بارے میں جو ازدواجی تعلق قائم کرنے پر قادر نہ ہو (عنِّین)، اس سے متعلق وارد احکام۔
حدیث نمبر: 3197
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، نا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَى امْرَأَةٍ لَا أَيِّمٍ، وَلَا ذَاتِ زَوْجٍ؟ قَالَ: «فَأَيْنَ زَوْجُكِ؟» قَالَتْ: هُوَ فِي الْقَوْمِ، فَقَامَ شَيْخٌ يَجْنَحُ فَقَالَ: مَا تَقُولُ هَذِهِ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: سَلْهَا هَلْ تَنْقِمُ مِنْ مَطْعَمٍ أَوْ ثِيَابٍ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: «فَمَا مِنْ شَيْءٍ» قَالَ: لَا، قَالَ: وَلَا مِنَ السِّحْرِ، قَالَ: وَلَا مِنَ السِّحْرِ، قَالَ: هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ، قَالَتْ: فَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ: قَالَ: «اصْبِرِي، فَإِنَّ اللَّهَ لَوْ شَاءَ ابْتَلَاكِ بِأَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ»مظاہر امیر خان
ہانی بن ہانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ایک عورت آئی اور کہا: ”میں نہ بیوہ ہوں نہ شادی شدہ۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شوہر کو بلایا، بات پوچھی اور کہا: ”صبر کرو، اگر اللہ چاہے تو آزمائش کو سخت تر بھی کر سکتا تھا۔“