سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحِلِّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ باب: محلِّل (حلالہ کرنے والے) اور محلَّل لہ (جس کے لیے حلالہ کیا جائے) کے بارے میں وارد احکام۔
حدیث نمبر: 3177
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ هَلْ كَانَ ابْنُ الْخَطَّابِ حَلَّلَ بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ؟ فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا كَانَتْ لِرَجُلٍ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَمَالٍ، فَطَلَّقَهَا زَوْجُهَا تَطْلِيقَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَبَانَتْ مِنْهُ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ تَزَوَّجَهَا فَهُنِّئَ بِهَا، وَقَالُوا: لَوْلَا أَنَّهَا امْرَأَةٌ لَيْسَ بِهَا وَلَدٌ، فَقَالَ عُمَرُ: «وَمَا بَرَكَتُهُنَّ إِلَّا لِأَوْلَادِهِنَّ» فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَتَزَوَّجَهَا زَوْجُهَا الْأَوَّلُ.مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسی شوہر اور بیوی کے درمیان حلالہ نہیں کرایا، بلکہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے نکاح کیا، پھر بغیر دخول کے طلاق دے دی، تو اس کا پہلا شوہر دوبارہ نکاح کر سکا۔
وضاحت:
وضاحت: اثر مرسل ہے (کیونکہ ابراہیم النخعی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے) تاہم مرسل اثر تابعی کا اگر معروف اور صحیح اسناد سے مؤید ہو تو قابلِ قبول ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ کثیر التلامذہ ثقہ تابعی ہو، جیسا کہ ابراہیم النخعی رحمہ اللہ۔