حدیث نمبر: 3176
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، وَنَدِمَ وَبَلَغَ ذَلِكَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَقِيلَ لَهُ: انْظُرْ رَجُلًا يُحِلُّهَا لَكَ، وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ لَهُ حَسَبٌ أُقْحِمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَكَانَ مُحْتَاجًا لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يَتَوَارَى بِهِ إِلَّا رُقْعَتَيْنِ , رُقْعَةٌ يُوَارِي بِهَا فَرْجَهُ، وَرُقْعَةٌ يُوَارِي بِهَا دُبُرَهُ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ، فَقَالُوا لَهُ: هَلْ لَكَ أَنْ نُزَوِّجَكَ امْرَأَةً فَتَدْخُلَ عَلَيْهَا، فَتَكْشِفَ عَنْهَا خِمَارَهَا ثُمَّ تُطَلِّقَهَا وَنَجْعَلَ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا، قَالَ: نَعَمْ: فَزَوَّجُوهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، وَهُوَ شَابٌّ صَحِيحُ الْحَسَبِ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى الْمَرْأَةِ فَأَصَابَهَا فَأَعْجَبَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: أَعِنْدَكَ خَبَرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، هُوَ حَيْثُ تُحِبِّينَ، جَعَلَهُ اللَّهُ فِدَاءَهَا، قَالَتْ: فَانْظُرْ لَا تُطَلِّقْنِي بِشَيْءٍ، فَإِنَّ عُمَرَ لَنْ يُكْرِهَكَ عَلَى طَلَاقِي: فَلَمَّا أَصْبَحَ لَمْ يَكَدْ أَنْ يَفْتَحَ الْبَابَ حَتَّى كَادُوا أَنْ يَكْسِرُوهُ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ، قَالُوا: طَلِّقْ، قَالَ: الْأَمْرُ إِلَى فُلَانَةَ، قَالَ: فَقَالُوا لَهَا: قُولِي لَهُ أَنْ يُطَلِّقَكِ، قَالَتْ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ لَا يَزَالَ يَدْخُلُ عَلَيَّ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ لَهُ: «إِنْ طَلَّقْتَهَا لَأَفْعَلَنَّ بِكَ» وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَزَقْتَ ذَا الرُّقْعَتَيْنِ إِذْ بَخِلَ عَلَيْهِ عُمَرُ»
مظاہر امیر خان

حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، بہت نادم ہوا، لوگوں نے کہا: کسی کو ڈھونڈو جو حلالہ کرے، چنانچہ ایک غریب دیہاتی نوجوان کو نکاح کرایا، لیکن جب اس نے عورت کو دیکھا تو پسند آ گئی اور اس نے طلاق دینے سے انکار کر دیا، عورت بھی راضی ہو گئی، جب لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے طلاق دی تو کچھ نہیں، اور اگر نہ دی تو اللہ نے فقیر کو رزق عطا کر دیا جسے عمر نے روکنے کی کوشش کی تھی۔“

وضاحت:
وضاحت: سعید بن منصور: امام، ثقہ
ہشیم بن بشیر: ثقہ، مدلس (عنعنہ ہے)
یونس بن عبید: ثقہ
ابن سیرین: محمد بن سیرین، ثقہ تابعی، قصہ مرسل ہے (ابن سیرین نے کسی نامعلوم صحابی سے نقل کیا)
❗ مرسل ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے، لیکن واقعہ کثیر الطرق ہے، دیگر آثار سے مؤید ہے۔
یہ اثر تحلیل نکاح کی مذمت پر ایک قوی اور عملی اثر ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ موقف صحیح احادیث کے مطابق ہے: «لعن الله المحلل والمحلل له» – (ترمذی، ابن ماجہ: صحیح)
? یہ اثر نکاحِ تحلیل کو محض حیلہ بنا کر استعمال کرنے والوں کے لیے عبرت آموز واقعہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3176
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1999، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14308، 14309، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10786، 10787، 10788»