سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْمَرْأَةِ تُطَلَّقُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ غَيْرَهُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا هَلْ تَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ باب: اُس عورت کا بیان جسے تین طلاقیں دی گئیں، پھر اس نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا اور وہ اس سے ہمبستری سے پہلے طلاق دے دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے لیے واپس جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 3168
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو شِهَابٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَأَصَابَ مِنْهَا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَمَسَّهَا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «لَا، حَتَّى يَمَسَّهَا» فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: «لَا حَتَّى يَمَسَّهَا» فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: «لَا، حَتَّى يَأْخُذَ بِرِجْلِهَا»مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اور ہر چیز کی اجازت دی مگر مباشرت نہ کی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نہیں، جب تک کہ اس سے تعلق قائم نہ کرے۔“