سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْمَرْأَةِ تُطَلَّقُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ غَيْرَهُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا هَلْ تَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ باب: اُس عورت کا بیان جسے تین طلاقیں دی گئیں، پھر اس نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا اور وہ اس سے ہمبستری سے پہلے طلاق دے دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے لیے واپس جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 3166
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " أَمَّا النَّاسُ فَيَقُولُونَ حَتَّى يُجَامِعَهَا، وَأَمَّا أَنَا فَإِنِّي أَقُولُ: إِذَا تَزَوَّجَهَا تَزْوِيجًا صَحِيحًا لَا يُرِيدُ بِذَلِكَ إِحْلَالًا لَهَا، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا الْأَوَّلُ "مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عام لوگ تو کہتے ہیں کہ جب دوسرا شوہر ازدواجی تعلق قائم کرے، لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر دوسرا نکاح صحیح طریقے سے، بغیر کسی حلالہ کی نیت کے کیا جائے تو پہلے شوہر کے لیے نکاح کرنا جائز ہے۔“