سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْمَرْأَةِ تُطَلَّقُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ غَيْرَهُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا هَلْ تَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ باب: اُس عورت کا بیان جسے تین طلاقیں دی گئیں، پھر اس نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا اور وہ اس سے ہمبستری سے پہلے طلاق دے دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے لیے واپس جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 3163
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ رَجُلًا بَعْدَهُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، قَالَ عَلِيٌّ: «لَا تَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ حَتَّى يَقْرَبَهَا الْآخَرُ»مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے اور وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، اگر دوسرا شوہر بیوی سے تعلق قائم کرنے سے پہلے طلاق دے دے تو پہلے شوہر کے پاس واپسی جائز نہیں جب تک دوسرا شوہر اس سے تعلق نہ قائم کرے۔“