سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْمَرْأَةِ تُطَلَّقُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ غَيْرَهُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا هَلْ تَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ باب: اُس عورت کا بیان جسے تین طلاقیں دی گئیں، پھر اس نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا اور وہ اس سے ہمبستری سے پہلے طلاق دے دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے لیے واپس جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي وَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجَنِي ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ» فَنَادَى خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ بِالْبَابِ: أَلَا تَسْمَعُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا تَجْهَرُ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رعافہ القرظی کی بیوی نبیہ کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ائیں اور عرض کیا: ”میں رفاعہ کے نکاح میں تھی، اس نے مجھے تین طلاقیں دے کر علیحدہ کر دیا، پھر ابن زبئر سے نکاح کیا، لیکن اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”کیا تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، جب تک دوسرا شوہر تم سے تعلق نہ قائم کرے اور تم اس سے۔“