سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مَرِيضًا وَمَنْ يَرِثُهَا باب: اُس مرد کا بیان جس نے بیماری کی حالت میں بیوی کو طلاق دی، اور یہ کہ اس کی میراث کا حق دار کون ہوگا۔
حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ إِنْ مَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ وَرِثَتْهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ شُبْرُمَةَ: أَرَأَيْتَ إِنِ انْقَضَتِ الْعِدَّةُ أَتَتَزَوَّجُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَإِنْ هَذَا مَاتَ، وَمَاتَ الْأَوَّلُ أَتَرِثُ زَوْجَيْنِ؟ قَالَ: " لَا، رَجَعَ إِلَى الْعِدَّةِ قَالَ: «تَرِثُهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ»مظاہر امیر خان
ابو ہاشم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بیماری کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس بیماری میں مر جائے تو بیوی اس کی وارث ہو گی، ابن شبرمہ نے کہا: ”اگر عدت پوری ہو جائے تو کیا وہ کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ تو پوچھا: ”اگر دوسرا شوہر مر جائے تو کیا دونوں کا وارث بنے گی؟“ کہا: ”نہیں، عدت ہی معیار ہے، جب تک عدت میں ہو گی وراثت پائے گی۔“