سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابٌ أُمُّ الْوَلَدِ يَكُونُ لَهَا مِنْ سَيِّدِهَا أَوْلَادٌ فَيَمُوتُ عَنْهَا فَتُزَوَّجُ فَتَلِدُ مِنْهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ يَمُوتُ بَعْضُ وَلَدِهَا مِنَ السَّيِّدِ باب: ایسی اُمِّ ولد کے بارے میں، جس کے اپنے آقا سے (پہلے) بچے ہوں، پھر آقا فوت ہو جائے، تو وہ (آزاد ہو کر) نکاح کرے اور اُس شوہر سے بھی اُسے اولاد ہو، پھر اس کے آقا سے ہونے والے کچھ بچے وفات پا جائیں۔
حدیث نمبر: 3133
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي عَبْدٍ مَمْلُوكٍ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ، وَلَهُ أَخٌ حُرٌّ، فَمَاتَ أَخُوهُ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا قَالَ: «يُمْسِكُ الْعَبْدُ عَنِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَبِهَا حَمْلٌ أَوْ لَيْسَ بِهَا؟ فَإِنْ كَانَ بِهَا حَمْلٌ وَرِثَ وَلَدُهَا عَمَّهُ» وَكَانَ يَقُولُ فِي رَجُلٍ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ لَهَا وَلَدٌ مِنْ غَيْرِهِ فَمَاتَ وَلَدُهَا ذَاكَ، قَالَ: «يُمْسِكُ الرَّجُلُ عَنِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَبِهَا حَمْلٌ أَمْ لَا؟»مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب غلام کسی آزاد عورت سے نکاح کرے اور اس کا آزاد بھائی فوت ہو جائے تو غلام اپنی بیوی سے رکے جب تک حمل کا پتہ نہ چل جائے، اگر حمل ہو تو بچہ اپنے چچا کا وارث ہو گا۔“