سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا يَقَعُ لَهُ إِيلَاءُ الْيَمِينِ باب: وہ صورتیں جن میں شوہر کی قسم ایلاء (جماع سے روکنے کی قسم) شمار ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3115
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: آلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَنَسٍ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، فَغَابَ عَنْهَا سِتَّةَ أَشْهُرٍ، ثُمَّ جَاءَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: «ائْتِهَا فَأَعْلِمْهَا أَنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، ثُمَّ اخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا» فَأَتَاهَا فَأَعْلَمَهَا وَخَطَبَهَا إِلَى نَفْسِهَا، وَأَصْدَقَهَا رِطْلًا مِنْ وَرِقٍمظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر چھ مہینے غائب رہے، پھر واپس آ کر بیوی کے پاس آئے، تو لوگوں نے کہا کہ وہ تم سے جدا ہو چکی ہے، پس سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ذکر کیا، انہوں نے فرمایا: ”اس کے پاس جاؤ اور اطلاع دو کہ تم سے جدا ہو چکی ہے، پھر اسے نکاح کا پیغام دو۔“ چنانچہ اس نے نکاح کیا اور ایک رطل چاندی مہر مقرر کی۔