سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا يَقَعُ لَهُ إِيلَاءُ الْيَمِينِ باب: وہ صورتیں جن میں شوہر کی قسم ایلاء (جماع سے روکنے کی قسم) شمار ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3104
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيحٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِذَا آلَى ثُمَّ طَلَّقَ فَهُمَا كَفَرَسَيْ رِهَانٍ»مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص ایلاء کرے پھر طلاق دے تو یہ دونوں ایسے ہیں جیسے دو دوڑتے گھوڑے۔
وضاحت:
وضآحت: إسماعیل بن عیاش: اگر اپنے شامی شیوخ سے روایت کریں تو ثقہ، لیکن جب غیر شامی (یعنی مکی، عراقی) سے روایت کریں، تو ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔
ابن جریج: ثقہ، مگر مدلس ہیں، اور یہاں عن سے روایت ہے۔
عمن حدثه: یہ مجہول راوی ہے، اس کا تعیین نہیں ہے۔
? لہٰذا سند میں دو علتیں ہیں: إسماعیل بن عیاش کا غیر شامی راوی سے روایت کرنا۔
ابن جریج کا عنعنہ اور مجہول راوی۔
ابن جریج: ثقہ، مگر مدلس ہیں، اور یہاں عن سے روایت ہے۔
عمن حدثه: یہ مجہول راوی ہے، اس کا تعیین نہیں ہے۔
? لہٰذا سند میں دو علتیں ہیں: إسماعیل بن عیاش کا غیر شامی راوی سے روایت کرنا۔
ابن جریج کا عنعنہ اور مجہول راوی۔