حدیث نمبر: 3051
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَخِيهِ، وَهِيَ تُرْضِعُ ابْنَ أَخِيهِ، فَقَالَ: هِيَ طَالِقٌ إِنْ قَرَبَهَا حَتَّى تَفْطِمَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ: «إِنَّمَا أَرَدْتَ لَكَ وَلِابْنِ أَخِيكَ فَلَا إِيلَاءَ عَلَيْكَ، إِنَّمَا الْإِيلَاءُ مَا كَانَ فِي الْغَضَبِ»
مظاہر امیر خان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: بھائی کی بیوی سے نکاح کیا جبکہ وہ اس کے بیٹے کو دودھ پلا رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم پر کوئی ایلاء نہیں، ایلاء تو صرف غضب کے وقت ہوتا ہے۔“

وضاحت:
وضاحت: أبو عطية الأسدي کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع کی صراحت نہیں ملتی، اس لیے یہ اثر مرسل تابعی ہے، البتہ مرسل اثرِ صحابی فقہی استدلال میں معتبر ہوتا ہے، خاص طور پر جب مضمون میں نکارت یا شذوذ نہ ہو، اور تائید دیگر مصادر سے ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فتوٰی: اصل نیت کا اعتبار کیا: اگر شوہر نے بیوی سے اصلاحی مقصد سے علیحدگی اختیار کی (مثلاً: بچہ دودھ چھوڑ دے)،تو یہ إيلاء شمار نہیں ہو گا۔
ایلاء وہ ہے جو جھگڑے، غضب، یا عداوت کے جذبے سے ہو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3051
درجۂ حدیث محدثین: حسنٌ لذاته
تخریج حدیث «حسنٌ لذاته، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1874، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15339، 15340، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11632، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18947، 18948»