حدیث نمبر: 3002
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ جَاءَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، وَإِنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ قَالَ: «وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، قَالَ: «فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ»
مظاہر امیر خان

ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے بیوی سے ظہار کیا اور پھر قربت کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسا کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”میں نے چاندنی میں اس کی پنڈلی دیکھی تو ضبط نہ کر سکا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کفارہ ادا کرنے تک اس سے دور رہو۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3002
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3458، 3459، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5623، 5624، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2221، 2222، بدون ترقيم، بدون ترقيم، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1825، 1826، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15360، 15361، 15362، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11525، 11526»
قال أبو حاتم الرزي: كذا رواه الوليد وهو خطأ إنما هو عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل، علل الحديث: (4 / 113)
سند کی تحقیق:
سعید بن منصور: ثقہ، مصنف۔
معتمر بن سلیمان: ثقہ، ثبت۔
الحکم بن أبان: صدوق، اختلاط سے پہلے روایت سنی گئی ہے، معتمر ان سے پہلے کے ہیں، لہٰذا روایت محفوظ۔
عکرمہ: ثقہ، مشہور تابعی، مگر ان کی مرسل روایات پر اختلاف ہے، البتہ یہاں وہ راوی کے طور پر قابل قبول ہیں۔
? یہ روایت مرسل یا منقطع نہیں بلکہ متصل ہے، اور اس کی تائید صحیح احادیث سے ہوتی ہے، جیسے:
❖ صحیح مسلم، کتاب الظهار، باب: إذا واقع المظاهر امرأته قبل أن يكفر (حدیث نمبر: 1404)
❖ اس میں بھی اسی مضمون کی صریح روایت آئی ہے۔