حدیث نمبر: 2958
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَةً لَهُ، فَقَالَتْ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ مِنِّيَ شَيْئًا تَكْرَهُهُ؟ قَالَ: «لَا» قَالَتْ: فَفِيمَ تُطَلَّقُ الْعَفِيفَةُ الْمُسْلِمَةُ؟ قَالَ: فَارْتَجَعَهَا
مظاہر امیر خان

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیوی کو طلاق دی، اس نے کہا: ”کیا آپ نے مجھ میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھی ہے؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: ”پھر عفیف مسلمہ کو کس بات پر طلاق دی جاتی ہے؟“ تو آپ نے رجوع کر لیا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «إسنادہ صحیح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1099، 1781»