حدیث نمبر: 292
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، وَلَإِيَّايَ عَنَى بِهَا، { فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ } كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، وَقَدْ حَصَرَنَا الْعَدُوُّ، وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ، فَكَانَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ، وَنَزَلَتِ الْآيَةُ .
مظاہر امیر خان

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ آیت میری وجہ سے نازل ہوئی اور میرا ہی اس سے مراد تھا ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور ہم محرم تھے، دشمن نے ہمیں محصور کر رکھا تھا، میرا سر بالوں سے بھرا ہوا تھا، تو کیڑے میرے چہرے پر گر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: لگتا ہے تمہارے سر کے کیڑے تمہیں تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: تو سر منڈواؤ، اور پھر یہ آیت نازل ہوئی۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 292
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف، والحديث صحيح من غير هذا الوجه.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، 2677، 2678، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860، والترمذي فى (جامعه) برقم: 953، 2973، 2973 م 1، 2973 م 2، 2974، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، 290، 291، 292، 293، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388، والحميدي فى (مسنده) برقم: 726، 727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1395»