سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ لَهُ أَمَتَانِ أُخْتَانِ يَطَؤُهُمَا باب: اس شخص کا بیان جس کے پاس دو باندیاں ہوں جو آپس میں بہنیں ہوں، اور وہ دونوں سے ہمبستری کرے۔
حدیث نمبر: 2911
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ الْأُمِّ وَابْنَتِهَا، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهُمَا جَمِيعًا. قَالَ أَبِي: فَرَدَدْتُ أَنَّ عُمَرَ كَانَ أَشَدَّ فِي ذَلِكَ مِمَّا هُوَ "مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا ماں اور بیٹی کو اکٹھے رکھا جا سکتا ہے؟ فرمایا: ”مجھے یہ جائز قرار دینا پسند نہیں۔“