سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلهِ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، نَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: احْلِقْ رَأْسَكَ وَانْسُكْ نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ . ¤ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: وَقَالَ سُفْيَانُ، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: اذْبَحْ شَاةً، وَقَالَ أَيُّوبُ: انْسُكْ نَسِيكَةً .سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے جب وہ اپنی ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ نے فرمایا: کیا تمہارے کیڑے تمہیں تکلیف دیتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: اپنا سر منڈواؤ اور نسک (فدیہ) ادا کرو، یا تین دن روزہ رکھو، یا چھ مسکینوں کے درمیان فرق (صدقہ) کھلاؤ، سعید رحمہ اللہ نے کہا: اور سفیان رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن ابی نجیح رحمہ اللہ نے کہا: بکری ذبح کرو، اور ایوب رحمہ اللہ نے کہا: نسک (فدیہ) ادا کرو۔