حدیث نمبر: 2900
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ فَجَرَ بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ، قَالَ: «لَا تُحَرَّمُ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ، وَيَعْتَزِلُهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ الْأُخْرَى، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى امْرَأَتِهِ، وَيَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ وَلَا يَعُودُ» .
مظاہر امیر خان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کی بہن سے بدکاری کی تو فرمایا: ”اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی، وہ اپنی بیوی سے عدت تک الگ رہے، پھر رجوع کرے اور اللہ سے استغفار کرے اور دوبارہ ایسا نہ کرے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2900
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «إسناده ضعیف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
قال إبن حجر: محمد بن سالم ضعيف، قال الذھبی: متروک