حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ، وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ، فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَنَزَلَتْ: { فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ } فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً .
مظاہر امیر خان

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت میری وجہ سے نازل ہوئی، اور کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں تھے اور ہم محرم تھے، مشرکین نے ہمیں محصور کر رکھا تھا، میرا سر بالوں سے بھرا ہوا تھا، تو کیڑے میرے چہرے پر گرنے لگے، پھر یہ آیت نازل ہوئی ﴿فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے سر کے کیڑے تمہیں تکلیف دیتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: تو سر منڈواؤ، اور تین دن روزہ رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھلاؤ، یا نسک (فدیہ) ادا کرو۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 290
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وقد أخرجه البخاري من طريق هشيم، عن أبي بشر، وأخرجه هو ومسلم من طريق أخرى عن مجاهد كما سيأتي
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، 2677، 2678، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860، والترمذي فى (جامعه) برقم: 953، 2973، 2973 م 1، 2973 م 2، 2974، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، 290، 291، 292، 293، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388، والحميدي فى (مسنده) برقم: 726، 727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1395»