حدیث نمبر: 289
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ إِلَيْنَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، فَقَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: { فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ } قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ شَأْنُكَ ؟ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ، فَوَقَعَ الْقَمْلُ فِي رَأْسِي وَلِحْيَتِي وَشَارِبِي، حَتَّى وَقَعَ فِي حَاجِبَيَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ هَذَا، ادْعُ الْحَالِقَ، فَجَاءَ الْحَالِقُ، فَحَلَقَ رَأْسِي، فَقَالَ: هَلْ تَجِدُ مِنْ نَسِيكَةٍ ؟ قُلْتُ: لَا - وَهِيَ شَاةٌ -، قَالَ: فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، قَالَ: وَأُنْزِلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً .
مظاہر امیر خان

عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے، تو ہمارے پاس سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ آ کر بیٹھے، انہوں نے کہا: میری وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ﴾، کہا: میں نے پوچھا: آپ کا معاملہ کیسا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محرم ہو کر نکلے، تو میرے سر، داڑھی اور مونچھوں میں جوئیں پڑ گئیں، حتیٰ کہ میری ابروؤں تک پہنچ گئیں، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تکلیف تمہیں اس حد تک پہنچ جائے گی، حجام کو بلاؤ، تو حجام آیا اور اس نے میرا سر منڈوا دیا، پھر آپ نے فرمایا: کیا تم نسک (فدیہ) کے لیے کچھ پاتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں - اور وہ بکری تھی -، آپ نے فرمایا: تو تین دن روزہ رکھو یا تین صاع چھ مسکینوں کے درمیان کھلاؤ، کہا: اور یہ آیت خاص طور پر میری وجہ سے نازل ہوئی، اور یہ لوگوں کے لیے عام ہے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 289
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وقد أخرجه البخاري ومسلم كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، 2677، 2678، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860، والترمذي فى (جامعه) برقم: 953، 2973، 2973 م 1، 2973 م 2، 2974، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، 290، 291، 292، 293، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388، والحميدي فى (مسنده) برقم: 726، 727، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 1395»