سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الْبَتَّةِ وَالْبَرِيَّةِ وَالْخَلِيَّةِ وَالْحَرَامِ باب: بتہ، بریہ، خلیہ اور حرام جیسے الفاظ میں طلاق کے مسائل
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَجُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، زَارَتْ أَبَاهَا ذَاتَ يَوْمٍ وَكَانَ يَوْمَهَا، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَهَا فِي الْمَنْزِلِ، أَرْسَلَ إِلَى أَمَتِهِ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ، فَأَصَابَ مِنْهَا فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، وَجَاءَتْ حَفْصَةُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَفْعَلُ هَذَا فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي؟ قَالَ: «فَإِنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ، وَلَا تُخْبِرِي بِذَاكَ أَحَدًا» . فَانْطَلَقَتْ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَتْهَا بِذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1] إِلَى قَوْلِهِ: {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4]، فَأُمِرَ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِهِ، وَيُرَاجِعَ أَمَتَهُ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ان کی عدم موجودگی میں سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہمبستری کی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے واپس آ کر ناراضگی ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، اور کسی کو یہ بات نہ بتانا۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اطلاع دی، تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ»۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ کفارہ ادا کریں اور اپنی باندی سے رجوع کریں۔