حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلهِ } قَالَ: هِيَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللهِ: (إِلَى الْبَيْتِ)، قَالَ: لَا تُجَاوِزُ بِالْعُمْرَةِ الْبَيْتَ، فَإِذَا أُحْصِرْتُمْ، فَإِذَا أَهَلَّ الرَّجُلُ بِالْحَجِّ فَأُحْصِرَ، بَعَثَ بِمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَإِنْ هُوَ عَجَّلَ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَحَلَقَ رَأَسَهُ أَوْ مَسَّ طِيبًا أَوْ تَدَاوَى بِدَوَاءٍ كَانَ عَلَيْهِ فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةً أَوْ نُسُكٍ، وَالصِّيَامُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَالصَّدَقَةُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ، { فَإِذَا أَمِنْتُمْ } يَقُولُ: إِذَا بَرَأَ فَمَضَى مِنْ وَجْهِهِ ذَلِكَ إِلَى الْبَيْتِ، أَحَلَّ مِنْ حَجَّتِهُ بِعُمْرَةٍ، وَكَانَ عَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ، فَإِنْ هُوَ رَجَعَ وَلَمْ يُتِمَّ مِنْ وَجْهِهِ ذَلِكَ إِلَى الْبَيْتِ كَانَ عَلَيْهِ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ وَدَمٌ لِتَأْخِيرِهِ الْعُمْرَةَ، فَإِنْ هُوَ رَجَعَ مُتَمَتِّعًا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ كَانَ عَلَيْهِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ شَاةٌ، فَإِنْ هُوَ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ . قَالَ إِبْرَاهِيمُ: يَجْعَلُ آخِرَ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ يَوْمَ عَرَفَةَ . قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: هَكَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ كُلِّهِ .
مظاہر امیر خان

علقمہ رحمہ اللہ، اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ کے بارے میں کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی قراءت میں ہے «إِلَى الْبَيْتِ»، کہا: عمرہ کو بیت اللہ سے آگے نہ بڑھاؤ، پھر اگر تم محصور ہو جاؤ، اگر آدمی نے حج کا احرام باندھا اور وہ محصور ہو گیا تو اس نے جو ہدی میسر ہوئی وہ بھیج دی، اگر اس نے ہدی کے محل تک پہنچنے سے پہلے جلدی کی اور سر منڈوایا یا خوشبو لگائی یا دوا سے علاج کیا تو اس پر فدیہ ہے، روزے یا صدقہ یا نسک، اور روزے تین دن کے، صدقہ تین صاع چھ مسکینوں پر، ہر مسکین کو آدھا صاع، اور نسک ایک بکری، ﴿فَإِذَا أَمِنْتُمْ﴾ یعنی جب وہ تندرست ہو گیا تو اس نے اسی سمت بیت اللہ کی طرف رخ کیا، اپنے حج سے عمرہ کر کے حلال ہو گیا، اور اس پر اگلے سال حج لازم ہوا، اگر وہ واپس لوٹ آیا اور بیت اللہ کی طرف رخ نہ کیا تو اس پر حج اور عمرہ اور عمرہ کو مؤخر کرنے کا دم لازم ہوا، اگر وہ حج کے مہینوں میں متمتع ہو کر واپس آیا تو اس پر جو ہدی میسر ہوئی یعنی ایک بکری، اگر اسے نہ ملا تو تین دن کے روزے حج میں اور سات جب واپس لوٹیں، ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: حج کے تین دنوں کے روزوں کا آخری دن عرفہ کا دن بنائے، ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ حدیث سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث میں کہا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 287
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وانظر الحديث رقم [٣] فيما يتعلق بتدليس الأعمش
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»