سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يَجْعَلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا باب: شوہر کا بیوی کو اپنے معاملے میں خود مختار بنانے کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ عَنِ الْخِيَارِ، فَقُلْتُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَاحِدَةٌ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ» . قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «إِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَواحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقٌّ بِهَا، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ»، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَثَلَاثٌ " فَقَالَ: اقْضِ فِيهَا بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِحضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: عبدالحمید نے مجھ سے اختیار کے بارے میں پوچھا، میں نے کہا: ”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو ایک طلاق بائن ہو گی، اور اگر شوہر کو اختیار کیا تو کچھ نہیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر عورت شوہر کو اختیار کرے تو ایک طلاق اور شوہر زیادہ حق دار، اور اگر نفس کو اختیار کرے تو ایک طلاق بائنہ۔“ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر نفس کو اختیار کرے تو تین طلاقیں۔“ تو کہا: ”اس میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول پر فیصلہ کرو۔“