حدیث نمبر: 2789
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، قَالَ: أنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ: دَخَلَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَلَى النَّصْرِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: إِنَّ يَتِيمَكَ هَذَا قَدْ حَلَفَ بِالطَّلَاقِ، وَالْعِتَاقِ قَالَ الْقَاسِمُ: «أَمَّا الطَّلَاقُ فَإِلَيْهِ، وَأَمَّا الْعِتَاقُ، فَإِلَيَّ»
مظاہر امیر خان

سیدنا قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ناصری (مدینہ کے امیر) کے پاس داخل ہوئے، اس نے کہا: ”تمہارا یتیم طلاق اور آزادی کی قسم کھا بیٹھا ہے۔“ قاسم نے کہا: ”طلاق کا معاملہ اس کا اپنا ہے اور آزادی کا معاملہ میرا ہے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2789
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»