سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يَقْذِفُهَا فِي عِدَّتِهَا باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کو طلاق دے، پھر عدت کے دوران اس پر زنا کا الزام لگا دے۔
حدیث نمبر: 2765
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَهِيَ بِبَلَدٍ آخَرَ فَيَقْذِفُهَا وَلَمْ يَرَهَا قَالَ: «يُجْلَدُ وَلَا لِعَانَ بَيْنَهُمَا، وَذَكَرَ أَنَّ الْأَعْمَى بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ، وَكُلُّ مَنْ لَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُ» قَالَ خُصَيْفٌ: قَالَ حَمَّادٌ: «كُلُّ مَخْرَجٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلزَّوْجِ فَإِنْ رَآهَا أَوْ لَمْ يَرَهَا فَإِنَّهُمَا يَتَلَاعَنَانِ وَالْأَعْمَى وَمَنْ لَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُ كَذَلِكَ، وَالْمُرْتَدُّ كَذَلِكَ»مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جو مرد بیوی سے دور شہر میں نکاح کرے اور قذف کرے مگر نہ دیکھے تو اس پر حد ہے اور لعان نہیں، نابینا اور غیر معتبر گواہ کے لیے بھی یہی حکم ہے، حضرت حماد رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مرد نے عورت کو دیکھا یا نہ دیکھا تب بھی لعان ہو گا، نابینا، ناقابل گواہ اور مرتد کا بھی یہی حکم ہے۔