سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَتَاعِ الْبَيْتِ إِذَا اخْتَلَفَ فِيهِ الزَّوْجَانِ باب: گھریلو سامان کے بارے میں اگر میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے، تو اس بارے میں کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2682
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، " أَنَّ امْرَأَةً، زَوَّجَتْ بَنْتَهَا، فَلَمَّا أَنْ أَرَادَتْ، أَنْ تُهْدِيَهَا، إِلَى زَوْجِهَا جَمَعَتْ حُلِيًّا لَهَا، وَأَشْهَدَتْ أَنَّ الْحُلِيَّ حُلِيُّهَا، فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فَكَتَبَ عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنَّ إِحْدَاهُنَّ تُخْبِرُ أَنَّ لِابْنَتِهَا الْمَالَ فَتُزَوِّجُهَا عَلَى ذَلِكَ، فَأَيُّمَا امْرَأَةٍ حَمَلَتْ مِنْ بَيْتِ أَهْلِهَا مَتَاعًا كَانَ مَعَهَا حَتَّى تَهْلِكَ فَهُوَ لَهَا ". وَكَانَ الشَّعْبِيُّ يَرَى ذَلِكَمظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک عورت نے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اور زیور تیار کر کے بیٹی کے لیے گواہی دی کہ یہ بیٹی کی ملکیت ہے، حجاج نے عبدالملک بن مروان کو لکھا، انہوں نے جواب دیا کہ جو عورت اپنی بیٹی کو گھر سے سامان دے تو وہ بیٹی کا ہے۔