سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَتَاعِ الْبَيْتِ إِذَا اخْتَلَفَ فِيهِ الزَّوْجَانِ باب: گھریلو سامان کے بارے میں اگر میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے، تو اس بارے میں کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2681
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: «إِذَا دَخَلْتِ الْمَرْأَةُ عَلَى زَوْجِهَا بِمَتَاعٍ أَوْ حُلِيٍّ ثُمَّ مَاتَتْ فَهُوَ مِيرَاثٌ، وَإِنْ أَقَامَ أَهْلُهَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ كَانَ عَارِيَةً عِنْدَهَا، إِلَّا أَنْ يُعْلِمُوا ذَلِكَ زَوْجَهَا»مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر عورت اپنے شوہر کے پاس سامان یا زیور لائے اور مر جائے تو وہ وراثت ہے، جب تک اہل عورت یہ ثابت نہ کریں کہ یہ عاریتاً تھا، مگر شرط یہ ہے کہ شوہر کو اطلاع دی ہو۔