سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَتَاعِ الْبَيْتِ إِذَا اخْتَلَفَ فِيهِ الزَّوْجَانِ باب: گھریلو سامان کے بارے میں اگر میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے، تو اس بارے میں کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2678
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: «مَا كَانَ لِلرِّجَالِ فَهُوَ لِلرِّجَالِ، وَمَا كَانَ لِلنِّسَاءِ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ وَمَا كَانَ مِمَّا يَكُونُ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَهُوَ لِلرِّجَالِ»مظاہر امیر خان
حضرت ابن شبرمہ اور حضرت ابن ابی لیلیٰ رحمہما اللہ نے فرمایا کہ جو سامان مردوں کا ہو وہ مردوں کے لیے، جو عورتوں کا ہو وہ عورتوں کے لیے، اور جو مشترکہ ہو وہ مردوں کے لیے ہے۔