سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَتَاعِ الْبَيْتِ إِذَا اخْتَلَفَ فِيهِ الزَّوْجَانِ باب: گھریلو سامان کے بارے میں اگر میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے، تو اس بارے میں کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2677
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَمَا كَانَ مِنْ مَتَاعٍ يَكُونُ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، فَهُوَ لِلرَّجُلِ حَيٌّ كَانَ أَوْ مَيِّتٌ»مظاہر امیر خان
حضرت ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو سامان مردوں اور عورتوں دونوں کا ہوتا ہے وہ زندہ ہو یا مردہ مرد کا ہوگا۔