سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَتَاعِ الْبَيْتِ إِذَا اخْتَلَفَ فِيهِ الزَّوْجَانِ باب: گھریلو سامان کے بارے میں اگر میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے، تو اس بارے میں کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2675
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو نُوحٍ الْمَدَنِيُّ، مِنْ آلِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ، رَجُلٌ قَدْ سَمَّاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَتَاعُ النِّسَاءِ لِلنِّسَاءِ، وَمَتَاعُ الرِّجَالِ لِلرِّجَالِ»مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کا سامان عورتوں کے لیے اور مردوں کا سامان مردوں کے لیے ہے۔