سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَتَاعِ الْبَيْتِ إِذَا اخْتَلَفَ فِيهِ الزَّوْجَانِ باب: گھریلو سامان کے بارے میں اگر میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے، تو اس بارے میں کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2674
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «مَا كَانَ لِلرَّجُلِ مِمَّا لَا يَكُونُ لِلنِّسَاءِ مِثْلُهُ فَهُوَ لِلرَّجُلِ، وَمَا كَانَ مِمَّا يَكُونُ لِلنِّسَاءِ مِمَّا لَا يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِثْلُهُ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ، وَإِنْ كَانَ مِمَّا يَكُونُ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مِثْلُهُ فَهُوَ لِلْبَاقِي مِنْهُمَا»مظاہر امیر خان
ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے کہا کہ جو چیز مردوں کے ساتھ خاص ہو وہ مرد کی ہے، جو عورتوں کے ساتھ خاص ہو وہ عورت کی ہے، اور جو چیز دونوں کے ساتھ مشترک ہو وہ جو بچ جائے اس کا ہے۔