سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَتَاعِ الْبَيْتِ إِذَا اخْتَلَفَ فِيهِ الزَّوْجَانِ باب: گھریلو سامان کے بارے میں اگر میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے، تو اس بارے میں کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2672
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، أَوْ مَاتَ عَنْهَا وَقَدْ أَحْدَثَتْ فِي بَيْتِهِ أَشْيَاءَ قَالَ الْحَسَنُ: «لَهَا مَا أَغْلَقَتْ عَلَيْهِ بَابَهَا إِلَّا سِلَاحَ الرَّجُلِ وَمُصْحَفَهُ»مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس عورت نے شوہر کی وفات یا طلاق کے بعد گھر میں کوئی چیز پیدا کی ہو تو اس کا وہی سامان ہے جس پر اس نے دروازہ بند کر دیا ہو، سوائے شوہر کے ہتھیار اور مصحف کے۔