سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِيلَاءِ باب: ایلاء (بیوی سے جماع نہ کرنے کی قسم کھانا) کے بارے میں وارد احادیث
حدیث نمبر: 2669
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، " فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ غَشِيَهَا سَيِّدُهَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] وَلَيْسَ هَذَا بِزَوْجٍ "مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس نے اپنی باندی کو دو طلاقیں دے دی تھیں اور پھر اس کا مالک اس سے ہمبستری کرے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» اور یہ نکاح نہیں۔