سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
وَقَالَ حَمَّادٌ: «لَيْسَ فِي مَالِهَا شَيْءٌ» باب: حماد نے کہا: اس کے مال میں سے کچھ نہیں۔
حدیث نمبر: 2624
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: خَلَعَ جُمْهَانَ الْأَسْلَمِيَّ امْرَأَتُهُ ثُمَّ نَدِمَ وَنَدِمَتْ، فَأَتَيَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " هِيَ تَطْلِيقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سَمَّيَتْ شَيْئًا فَهُوَ عَلَى مَا سَمَّيَتْ، فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ، وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَ حِيَضٍ، وَصَاحِبُهَا أَوْلَى بِالْخِطْبَةِ فِي الْعِدَّةِ "مظاہر امیر خان
جمحان اسلمی نے اپنی بیوی کو خلع دیا، پھر دونوں نے ندامت کا اظہار کیا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو آپ نے فرمایا: یہ ایک بائن طلاق ہے، جب تک کچھ مخصوص نہ کیا ہو۔ ہشام کہتے ہیں: میرے والد کہا کرتے تھے: خلع بائن طلاق ہے، اور عورت تین حیض عدت گزارے گی، اور عدت میں وہی شوہر نکاح کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا۔