حدیث نمبر: 2624
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: خَلَعَ جُمْهَانَ الْأَسْلَمِيَّ امْرَأَتُهُ ثُمَّ نَدِمَ وَنَدِمَتْ، فَأَتَيَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " هِيَ تَطْلِيقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سَمَّيَتْ شَيْئًا فَهُوَ عَلَى مَا سَمَّيَتْ، فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: الْخُلْعُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ، وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَ حِيَضٍ، وَصَاحِبُهَا أَوْلَى بِالْخِطْبَةِ فِي الْعِدَّةِ "
مظاہر امیر خان

جمحان اسلمی نے اپنی بیوی کو خلع دیا، پھر دونوں نے ندامت کا اظہار کیا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو آپ نے فرمایا: یہ ایک بائن طلاق ہے، جب تک کچھ مخصوص نہ کیا ہو۔ ہشام کہتے ہیں: میرے والد کہا کرتے تھے: خلع بائن طلاق ہے، اور عورت تین حیض عدت گزارے گی، اور عدت میں وہی شوہر نکاح کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2624
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1446، 1447، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14976، 14981، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3872، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11760، 11811، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18743، 18744، 18745، 18763»
قال أحمد بن حنبل: ضعفه بجمهان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 415)