سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
وَقَالَ حَمَّادٌ: «لَيْسَ فِي مَالِهَا شَيْءٌ» باب: حماد نے کہا: اس کے مال میں سے کچھ نہیں۔
حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِذَا نَشَزَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى زَوْجِهَا، وَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، فَإِنْ رَجَعَتْ إِلَى مَا يُحِبُّ فَذَاكَ، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ هَجَرَهَا فِي الْمَضْجَعِ، فَإِنْ رَجَعَتْ فَذَاكَ، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ ضَرَبَهَا ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ فَإِنْ رَجَعَتْ إِلَى مَا يُحِبُّ فَذَاكَ، وَإِلَّا فَقَدْ حَلَّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا وَيُخَلِّيَ عَنْهَا»مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: جب عورت شوہر کے خلاف سرکشی کرے تو شوہر اسے نصیحت کرے، اگر باز آ جائے تو بہتر، ورنہ بستر پر اس سے کنارہ کرے، پھر بھی باز نہ آئے تو ہلکا سا مارے، پھر بھی باز نہ آئے تو اب شوہر کے لیے مال لے کر چھوڑنے کی اجازت ہے۔