سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
وَقَالَ حَمَّادٌ: «لَيْسَ فِي مَالِهَا شَيْءٌ» باب: حماد نے کہا: اس کے مال میں سے کچھ نہیں۔
حدیث نمبر: 2610
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَتْ: " فَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَ زَوْجِي. فَقَالَ: مَا أَمْلِكُ ذَاكَ؛ أَعْطَاكِ مَالَهُ، وَاسْتَحَلَّكِ بِكِتَابِ اللَّهِ. فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَتُفَرِّقَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَإِلَّا قَتَلْتُهُ. قَالَ: اللَّهِ. قَالَتْ: اللَّهِ. قَالَ: اللَّهِ. قَالَتْ: اللَّهِ. قَالَ لِزَوْجِهَا: اخْلَعْهَا بِمَا دُونَ عِقَاصِ رَأْسِهَا؛ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا ". قَالَ جُوَيْبِرٌ: فَقُلْتُ لِلضَّحَّاكِ: أَيَأْخُذُ مِنْهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ أَعْطَتْهُ مِائَةَ أَلْفٍ، إِنَّمَا هِيَ امْرَأَةٌ اشْتَرَتْ نَفْسَهَا شِرًىمظاہر امیر خان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا: میرے اور شوہر کے درمیان جدائی کر دو۔ آپ نے فرمایا: میرے پاس کوئی اختیار نہیں، شوہر نے تمہیں اللہ کی کتاب کے ذریعے حلال کیا ہے۔ عورت نے قسم کھائی کہ اگر علیحدگی نہ کرائی گئی تو وہ شوہر کو قتل کر دے گی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شوہر سے کہا: عورت کو تھوڑے سے مال کے بدلے خلع دے دو، اس میں تمہارے لیے خیر نہیں۔ حضرت ضحاک رحمہ اللہ نے کہا: چاہے عورت سو ہزار دے، وہ اپنے آپ کو خرید رہی ہے۔