حدیث نمبر: 2609
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَدْ نَشَزَتْ عَلَى زَوْجِهَا، فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَمَرَهَا بِطَاعَةِ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَئِنْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِ لَأَقْتُلَنَّ نَفْسِي. فَأَمَرَ بِهَا إِلَى إِسْطَبْلِ الدَّوَابِّ، فَمَكَثَتْ فِيهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا: كَيْفَ وَجَدْتِ مَكَانَكِ الَّذِي كُنْتِ بِهِ؟ قَالَتْ: مَا وَجَدْتُ رَاحَةً مُنْذُ كُنْتُ عِنْدَهُ إِلَّا فِي هَذِهِ الثَّلَاثِ لَيَالِي. فَقَالَ لِزَوْجِهَا: اخْلَعْهَا بِدُونِ عِقَاصِ رَأْسِهَا؛ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا "
مظاہر امیر خان

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آئی جو شوہر سے نفرت کرتی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے نصیحت کی مگر وہ بولی: اگر مجھے شوہر کے پاس لوٹایا گیا تو میں خود کشی کر لوں گی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے جانوروں کے اصطبل میں تین دن رکھا، پھر پوچھا: کیسا لگا؟ اس نے کہا: تین دن میں نے راحت محسوس کی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے شوہر سے کہا: اسے معمولی چیز کے بدلے خلع دے دو، اس میں تمہارے لیے کوئی خیر نہیں۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2609
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1432، 1438، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14968، 14969، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3873، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11851، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18741، 18843، 18844»