سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُلْعِ باب: خلع کے بارے میں وارد احادیث
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، " أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِزَوْجِهَا: أَتْرُكُ لَكَ مَا عَلَيْكَ مِنْ صَدَاقِي عَلَى أَنْ تُطَلِّقَنِي. فَقَالَ: اشْهَدُوا. فَقَالَتِ: اشْهَدُوا. قَالَ: فَأَنْتِ طَالِقٌ. قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ , حَتَّى تُمِرَّهُنَّ ثَلَاثًا. قَالَ: فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا. قَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتَنِي، فَارْدُدْ عَلَيَّ مَالِي. فَاخْتَصَمَا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ جُلَسَاءُ شُرَيْحٍ: مَا نَرَى امْرَأَتَكَ إِلَّا قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، وَمَا نَرَاكَ إِلَّا قَدْ غَرِمْتَ مَالَهَا. فَقَالَ شُرَيْحٌ: أَوَ تَرَوْنَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: إِنَّ الْإِسْلَامَ إِذًا أَضْيَقُ مِنْ حَدِّ السَّيْفِ. ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ: أَمَّا امْرَأَتُكَ فَلَا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَأَمَّا مَالُكَ فَلَكَ "حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک عورت نے شوہر سے کہا: میں اپنا مہر چھوڑتی ہوں اگر تو مجھے طلاق دے دے۔ شوہر نے کہا: گواہ بناؤ۔ عورت نے بھی یہی کہا۔ شوہر نے ایک طلاق دی، عورت نے کہا: نہیں، جب تک تین طلاقیں نہ دے۔ شوہر نے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر وہ اپنا مہر واپس مانگنے لگی۔ جب معاملہ حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس پہنچا، تو حاضرین نے کہا: تمہاری بیوی تم سے جدا ہو گئی اور تم نے مال بھی کھو دیا۔ شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر تم یہی سمجھتے ہو تو اسلام تلوار کی دھار سے بھی تنگ ہو گیا۔ پھر شریح رحمہ اللہ نے شوہر سے کہا: بیوی تم پر حلال نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرے، البتہ مہر تمہیں واپس ملے گا۔