حدیث نمبر: 2585
حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ، قَالَ: نا عَلِيُّ بْنُ الْأَحْوَلِ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى الْحَسَنِ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّ زَوْجَهَا صَوَّامٌ قَوَّامٌ، وَإِنَّهَا لَمْ تُحِبَّهُ، أَفَتَخْتَلِعُ مِنْهُ؟ قَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُنْتَزِعَاتُ وَالْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ» . قَالَتْ: أَعِدْ عَلَيَّ , فَأَعَادَ عَلَيْهَا الْحَدِيثَ، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَأَصْبِرَنَّ. فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قَالَ الْحَسَنُ: مَا كُنْتُ أَرَى بَقِيَتِ امْرَأَةٌ تُصَبِّرُ نَفْسَهَا عَلَى مَكْرُوهٍ لِمَا بَلَغَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مظاہر امیر خان

حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے ان سے کہا: میرے شوہر بہت عبادت گزار ہیں لیکن میں ان سے محبت نہیں کرتی، کیا خلع لے لوں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منتزع اور مختلع عورتیں منافق ہیں۔ عورت نے دوبارہ پوچھا، انہوں نے پھر یہی حدیث دہرائی، تو وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! میں صبر کروں گی۔ حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نہ سمجھتا تھا کہ کوئی عورت ناپسندیدگی کے باوجود اتنا صبر کرے گی جب تک کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات نہ پہنچ جائے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 2585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل ضعیف
تخریج حدیث «إسنادہ مرسل ضعیف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1408، 1409، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11890، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19602»
قال الذھبی: قال أبو حاتم: ليس بالقوي