سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ» کا بیان
حدیث نمبر: 253
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ الْوَصِيَّةَ كَانَتْ قَبْلَ الْمِيرَاثِ، فَلَمَّا نَزَلَ الْمِيرَاثُ نَسَخَ الْمِيرَاثُ مَنْ يَرِثُ، وَبَقِيَتِ الْوَصِيَّةُ لِمَنْ لَا يَرِثُ، فَهِيَ ثَابِتَةٌ، فَمَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَةٍ لَمْ تَجُزْ وَصِيَّتُهُ ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ .مظاہر امیر خان
طاووس رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: وصیت کا حکم وراثت سے پہلے تھا، پھر جب وراثت کا حکم نازل ہوا تو ورثاء کے حق میں وصیت منسوخ ہو گئی اور جو وارث نہیں وہ وصیت کے حق دار رہے، پس یہ (حکم) باقی ہے، تو جو شخص کسی غیر قریبی کے لیے وصیت کرے تو اس کی وصیت جائز نہیں؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔“