سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ وَنَحْوُ ذَلِكَ مِنَ الْكِنَايَاتِ باب: طلاق کی کنایہ الفاظ: ’’تیری رسی تیرے کندھے پر‘‘ اور اس جیسے دیگر الفاظ ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2335
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، وَلَا سَبِيلَ لِي عَلَيْكِ، وَالطَّرِيقُ لَكِ وَاسِعٌ، قَالَا: «إِنْ كَانَ نَوَى الطَّلَاقَ فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ طَلَاقًا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ»مظاہر امیر خان
حسن بصری اور عامر شعبی رحمہما اللہ نے فرمایا: جو بیوی سے کہے: اپنے گھر چلی جا، یا کہے کہ میرا کوئی حق تجھ پر نہیں یا راستہ تیرے لیے کھلا ہے، اگر طلاق کی نیت ہو تو ایک طلاق ہے اور شوہر بیوی کا زیادہ حق دار ہے، اور اگر نیت نہ ہو تو کچھ نہیں۔