سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ وَنَحْوُ ذَلِكَ مِنَ الْكِنَايَاتِ باب: طلاق کی کنایہ الفاظ: ’’تیری رسی تیرے کندھے پر‘‘ اور اس جیسے دیگر الفاظ ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2332
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: اذْهَبِي فَتَزَوَّجِي، قَالَ: «لَيْسَ بِشَيْءٍ إِنْ لَمْ يَنْوِ طَلَاقًا» . فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ فَقَالَ: وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ، إِنَّ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا لَيَكُونُ طَلَاقًا "مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے بیوی سے کہا: چلی جا، شادی کر لے، تو فرمایا: اگر طلاق کی نیت نہ کی تو کچھ نہیں۔ حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم، اس سے ہلکی بات پر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔