سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ وَنَحْوُ ذَلِكَ مِنَ الْكِنَايَاتِ باب: طلاق کی کنایہ الفاظ: ’’تیری رسی تیرے کندھے پر‘‘ اور اس جیسے دیگر الفاظ ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2329
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ، قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَاسْتَحْلَفَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ: «مَا الَّذِي أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ؟» قَالَ: أَرَدْتُ الطَّلَاقَ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَامظاہر امیر خان
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: تیرا معاملہ تیرے ہاتھ، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے خانہ کعبہ کے رکن و مقام کے درمیان اسے قسم دی کہ نیت کیا تھی، اس نے کہا: طلاق کی نیت تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے جدائی کروا دی۔