حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَتَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ¤ مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَرَأَ خَمْسِينَ آيَةً كُتِبَ مِنَ الْحَافِظِينَ حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَرَأَ ثَلَاثَمِائَةِ آيَةٍ يَقُولُ الْجَبَّارُ: قَدْ نَصِبَ عَبْدِي فِيَّ ! وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ - وَالْقِنْطَارُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا - وَأَكْثَرُ، مَا شَاءَ مِنَ الْأَجْرِ ! فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَقُولُ رَبُّكَ لِلْعَبْدِ: اقْرَأْ وَارْقَ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً ! حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى آخِرِ آيَةٍ مَعَهُ، يَقُولُ رَبُّكَ لِلْعَبْدِ: اقْبِضْ ! يَقُولُ الْعَبْدُ بِيَدِهِ: يَا رَبِّ، أَنْتَ أَعْلَمُ ! قَالَ: يَقُولُ: بِهَذِهِ الْخُلْدَ، وَبِهَذِهِ النَّعِيمَ .سیدنا فضیلہ بن عبید اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات میں دس آیات پڑھے، وہ نماز پڑھنے والوں میں لکھا جائے گا اور غافلوں میں شمار نہ ہوگا۔ جو پچاس آیات پڑھے، وہ صبح تک اللہ کے محافظ بندوں میں لکھا جائے گا۔ جو تین سو آیات پڑھے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’میرا بندہ میری خاطر مشقت میں رہا!‘ اور جو ایک ہزار آیات پڑھے، اس کے لیے ایک قنطار (اجر) لکھا جائے گا، اور قنطار دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ، جتنا اللہ چاہے اجر عطا فرمائے! جب قیامت کا دن ہوگا تو تمہارا رب بندے سے فرمائے گا: ’پڑھو اور ہر آیت کے بدلے چڑھتے جاؤ!‘ یہاں تک کہ وہ اپنی آخری آیت تک پہنچ جائے گا، پھر اللہ فرمائے گا: ’لے لو!‘ بندہ ہاتھ پھیلا کر عرض کرے گا: ’اے رب! تو ہی بہتر جانتا ہے!‘ اللہ فرمائے گا: ’اس کے ذریعے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرو، اور اس کے ذریعے نعمتیں پاؤ!‘“