سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
وَكَانَ عُمَرُ «إِذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا أَوْجَعَ ظَهْرَهُ» باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تین طلاق دینے والے کو سزا دینے کے عمل کا بیان
حدیث نمبر: 2259
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ؟: أنا مُغِيرَةُ، قَالَ: " إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ قَالَ: إِذَا كَانَ كَلَامًا مُتَّصِلًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَإِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، بَانَتْ بِالْأُولَى، وَلَمْ تَكُنِ الْأُخْرَيَانِ شَيْئًا "مظاہر امیر خان
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر طلاقوں کا کلام متصل ہو تو دوسرا نکاح لازم ہے، اگر الگ الگ کہے اور بیچ میں خاموشی ہو تو پہلی طلاق معتبر ہوگی۔“