سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
وَكَانَ عُمَرُ «إِذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا أَوْجَعَ ظَهْرَهُ» باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تین طلاق دینے والے کو سزا دینے کے عمل کا بیان
حدیث نمبر: 2252
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سُفْيَانُ: أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالُوا فِي الَّذِي يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا: «إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس، ابو ہریرہ، اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”دخول سے پہلے تین طلاق والی عورت حلال نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرے۔“
وضاحت:
سفیان بن عیینہ نے روایت میں کہا "أظنه عن أبي سلمة" یعنی ابو سلمہ کا واسطہ "ظنّی" ہے، اس سے سند میں کچھ ضعف ہے (احتمالِ انقطاع) لیکن چونکہ متن درایتاً قوی ہے، اور صحیح حدیث و آیت سے مؤید ہے اس لیے یہ اثر قابلِ ہے۔