حدیث نمبر: 2239
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: " إِنِّي ابْتُلِيتُ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: امْرَأَتُهُ ابْنَةُ عَمِّهِ، أُحَدِّثُ نَفْسِي بِطَلَاقِهَا، حَتَّى أَرَى أَنَّ لِسَانِي قَدْ تَحَرَّكَ بِذَاكَ، وَحَتَّى أَضَعَ يَدِي عَلَى فَمِي مَخَافَةَ أَنْ يَبْدُرَنِي الْكَلَامُ بِطَلَاقِهَا. فَقَالَ سَعِيدٌ: أَتُرَاكَ مُطِيعًا؟ قَالَ: مَا سَأَلْتُكَ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطِيعَكَ. قَالَ: فَإِنَّ الطَّلَاقَ لَيْسَ هُنَاكَ، وَالطَّلَاقُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ طَاهِرٌ مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ، وَأَنْ يُشْهِدَ عَلَى طَلَاقِهَا وَعَلَى رَجْعَتِهَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ، فَذَلِكَ الطَّلَاقُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ "مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس ایک بصری شخص آیا، کہنے لگا: میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا وسوسہ کرتا ہوں، یہاں تک کہ ہاتھ سے منہ بند کرتا ہوں، حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ طلاق نہیں، اللہ کی مقرر کردہ طلاق وہ ہے جو پاکی میں بغیر جماع کے گواہوں کے ساتھ ہو۔“